(س) اَلِفَ يَاْلَفُ اَلْفًا: مانوس ہونا۔
(ض) اَلَفَ يَاْلِفُ اَلْفًا: جمع ہونا۔
اَلْفٌ ج اٰلَافٌ: ہزار، جیسے تین ہزار، پانچ ہزار۔ ﴿اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا﴾ (العنکبوت ۲۹:۱۴)؛ ﴿بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۲۴)
اُلُوْفٌ: ہزاروں۔ ﴿وَهُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۴۳)
تفعیل اَلَّفَ يُؤَلِّفُ تَاْلِيْفًا: محبت پیدا کرنا، جمع کرنا (اردو میں «تالیف»: کتاب مرتب کرنا، تصنیف؛ عربی میں: جوڑنا، دلوں میں الفت ڈالنا)۔ ﴿فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۰۳)؛ ﴿وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ﴾ (التوبۃ ۹:۶۰)
افعال اٰلَفَ يُؤْلِفُ اِيْلَافًا: مانوس کرنا۔ ﴿لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ﴾ (قریش ۱۰۶:۱)
اردو میں اس مادے سے: الفت، مؤلف۔
«تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں» (دیوانِ غالب)