ا ب لʾ-b-l
— إِبِل (اسمِ جمع، اس کے لفظ سے واحد نہیں آتا): اونٹ؛ عربوں کے ہاں یہ سب سے بڑی نعمت اور معیارِ دولت تھا، اسی لیے قرآن نے دلیل کے مقام پر اسے پیش کیا: ﴿أَفَلَا يَنْظُرُوْنَ إِلَي الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۱۷)
أَبَابِيْل: جھنڈ در جھنڈ، پے در پے آنے والے گروہ (اردو میں «ابابیل»: ایک پرندہ (ابابیل چڑیا)؛ عربی میں: جھنڈ در جھنڈ گروہ)؛ اہلِ لغت کا مشہور قول یہ ہے کہ اس کا واحد اس کے لفظ سے نہیں آتا (جیسے عَبَادِيْد و شَمَاطِيْط)، اور بعض نے إِبَّالَة یا إِبِّيْل کو اس کا واحد کہا ہے۔ ﴿وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيْلَ﴾ (الفیل ۱۰۵:۳)۔ قرآن میں یہ مادہ تین بار آیا ہے اور صرف بطورِ اسم۔